بہت پرانی بات ہے کہ ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے، اسلم اور اکرم۔ دونوں بچپن کے ساتھی تھے اور ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ ایک دن انہوں نے شہر جانے کا فیصلہ کیا۔ شہر جانے کے لیے انہیں ایک گھنے جنگل سے گزرنا تھا۔
جنگل میں داخل ہوتے ہی اکرم نے کہا، "اسلم، مجھے ڈر لگ رہا ہے، سنا ہے یہاں جنگلی جانور ہوتے ہیں۔"اسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تسلی دی، "گھبراؤ مت دوست! اگر کوئی مشکل آئی تو ہم مل کر اس کا سامنا کریں گے۔"ابھی وہ تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ اچانک جھاڑیوں میں سے ایک بھاری بھرکم ریچھ نکل آیا۔ ریچھ کو اپنی طرف آتا دیکھ دونوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
اکرم، جو درخت پر چڑھنا جانتا تھا، وہ اپنے دوست کا خیال کیے بغیر فوراً ایک اونچے درخت پر چڑھ گیا۔ بیچارہ اسلم درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔ اس نے اکرم کو پکارا، "دوست! میری مدد کرو، مجھے بھی اوپر کھینچ لو!" لیکن اکرم نے خوف کے مارے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسلم نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے سن رکھا تھا کہ ریچھ مردہ انسان کو نہیں کھاتا۔ وہ فوراً زمین پر لیٹ گیا اور اپنی سانس روک لی۔
ریچھ اسلم کے پاس آیا، اسے سونگھا اور یہ سمجھ کر چلا گیا کہ وہ مر چکا ہے۔جب ریچھ نظروں سے اوجھل ہو گیا، تو اکرم درخت سے نیچے اترا اور مسکرا کر اسلم سے پوچھا، "دوست! ریچھ تمہارے کان میں کیا کہہ رہا تھا؟"
اسلم کھڑا ہوا، اپنے کپڑے صاف کیے اور سنجیدگی سے بولا:
"ریچھ نے میرے کان میں کہا کہ جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ جائے، وہ کبھی سچا دوست نہیں ہو سکتا۔"اکرم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا، لیکن تب تک اسلم وہاں سے اکیلا ہی آگے نکل چکا تھا۔
سبق:
دوست وہی ہے جو مصیبت میں کام آئے۔


%D8%B3%DA%86%D8%A7%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%DB%8C%DA%86%DA%BE.png)